علی بابا ایک کرشماتی کمپنی

   علی بابا کو آج کے دور کا عجوبہ  کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہو- کمپنی کی بنیاد آج سے 21 سال قبل  چار اپریل 1999 کو رکھی گئی تھی-  ادارے کے فاؤنڈر جیک ما انگریزی استاد تھے-

علی بابا کی بنیاد جیک ما اور ان کے 17 دوستوں نے ہانزو(چائنا) کے ایک اپارٹمنٹ میں رکھی- اس وقت سب دوستوں کا ارادہ  ایک انٹرنیٹ کمپنی بنانے کا تھا لیکن آگے جاکرعلی بابا ایک ای کامرس کی ایک بڑی کمپنی بن کر سامنے آئی- 

علی بابا کا نام رکھنے کا واقعہ بھی ایک ایک حیرت انگیز عمل تھا-

 جیک ما نے ایک موقع پر بتایا کہ ایک دن وہ سان فرانسسکو کی ایک کافی شاپ میں موجود تھے- کہ اچانک ان کے ذہن میں 

 علی بابا کا نام آیا، انہوں نے ویٹر‌س سے پوچھا علی بابا کا کیا مطلب ہے، تو ویٹرس نے جواب دیا میرے خیال میں کھل جا سم سم- بس جیک ما نے یہیں سے سے علی بابا نام رکھنے کا کا ارادہ کیا-

 علی بابا کو گولڈمین سیچز اور سافٹ بینک سے 25 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری ملی۔ ابتدائی

کمپنی نے جب اپنے شئیر فروخت کے لیے پیش کیے یے تو پہلے ہی دن ریکارڈ 25 بلین ڈالر ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی- 19 ستمبر 2014 کو کو کمپنی کی ویلیو231 ارب ڈالر بتائی گئی- علی بابا دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک  ای کامرس کمپنی اورمصنوعی زہانت کمپنی ہے

، اس کے علاوہ دنیا کی سب سے بڑی سرمایہ کار کارپوریشنوں میں بھی اس کا شمار کیا جاتا ہے۔ کمپنی دنیا میں سب سے بڑے (علی بابا ڈاٹ کام) ، بازار کی میزبانی کرتی ہے۔ اس کے آن لائن فروخت اور منافع نے 2015 کے بعد سے تمام امریکی خوردہ فروشوں (بشمول وال مارٹ ، ایمیزون ، اور ای بے کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

آج علی بابا کا شمار دنیا کی دس بڑی منافع بخش کمپنیوں میں ہوتا ہے- کمپنی کے روح رواں جیک ما نے 2018 میں ریٹائر ہونے کا اعلان کردیا- اپریل 2020  کو جیک ما کی مجموعی دولت تقریبا 42 ارب ڈالر بتائی گئی- 

 جیک ما کی ریٹائر ہونے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ اب جیک ما سماجی اور ماحولیاتی بہبود کا کام کرنا چاہتے ہیں-

اپنا تبصرہ بھیجیں