تعلیمی پالیسی ندارد، لاکھوں طلبا کا مستقبل داؤ پر


پاکستان میں سکول بند ہوئے تقریبا 3 ماہ ہو چکے ہیں ان ماہ میں حکومت طلباء کو نہ تو کوئی تعلیمی ٹائم فریم دے سکی اور نہ ہی آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کر سکی جس کے باعث والدین شدید پریشانی میں مبتلا ہیں
دوسری طرف پرائیویٹ سکولز و کالجز صرف اپنی فیسز بٹورنے میں مشغول نظر آئے یہی صورتحال کتنے دِن تک جاری رہتی ہے اس پر کوئی تبصرہ کرنا محال ہے- حالیہ ماہ چونکہ تعلیمی چھٹیوں میں شمار کیے جاتے ہیں اور تدریسی سرگرمیاں ماہ مارچ سے بند تھے اس وجہ سے طلبا کا حرج ہوا
ہوا اس سلسلے میں جب والدین سے بات کی گئی گئی تو انہوں نے اپنی پریشانی کا اظہار اس طرح کیا کہ تعلیم کے حوالے سے حکومت اور وزارتِ تعلیم مکمل طور پر بے بس بس نظر آتی ہے- بظاہر تعلیم وزیر اعظم اور -وزرا کے پلان میں ہے ہی نہیں

نجی اسکولز کو اگر فکر ہے تو صرف اپنی فیسوں کی تین مہینے ہونے کو آئے لیکن طلباء سے نہ تو سکولز نے رابطہ کیا اور نہ ہی انتظامیہ نے کہ ان کی تعلیمی صورتحال حال کیسی جا رہی ہے اور سلیبس کیسے کور کیا جائے گا یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے

جبکہ طلباء کا کہنا تھا کہ سکولز انتظامیہ متفقہ طور پر کوئی تعلیمی پالیسی بنائیں تاکہ طلبہ اپنی تعلیمی روٹین کو بحال کریں اور سلیبس کی طرف لوٹیں کیونکہ بند ہونے والی معاشی سرگرمیاں تو پہلے ہی شروع ہو چکی ہیں تو ان سب میں تعلیم کا ذکر کیوں نہیں ہے-

اپنا تبصرہ بھیجیں