جماعت الدعوۃ کے مزید 4 رہنماؤں کو سزا

کالعدم قرار دی گئی جماعت الدعوۃ کے 4 رہنماؤں کو آج لاہور کی عدالت نے بین کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے اور غیر قانونی فنڈنگ کے الزام میں قید و جرمانے کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ اس سے پہلے استغاثہ کو دیکھا جائے تو کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپاٹمنٹ کے مطابق یہ افراد کالعدم تنظیموں کے لیے پیسے اکٹھے کرتے تھے اور پھر ان رقوم سے اثاثے بنائے گئے تھے۔

جماعت الدعوۃ کے رہنماؤں پر مختلف مقدمات قائم کیے گئے ہیں لیکن ابھی تک دو مقدمات کا ہی فیصلہ سنایا گیا ہے- خصوصی عدالت نے گذشتہ سال قائم ہونے والے کیس پر سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ سنایا گیا ہے اور تفصیلی فیصلے کے مطابق جماعت الدعوۃ کے 4 رہنماؤں کو 1 سے 5 سال تک کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

محکمہ داخلہ نے اس سے پہلے کہا تھا کہ جماعت نے اکھٹی کی گئی رقوم سے مختلف غیر سرکاری تنظیموں یا فلاحی اداروں کے نام سے اثاثے بنائے- اہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے جماعت الدعوۃ کے پروفیسر ظفر اقبال اور یحییٰ عزیز عرف یحیٰی مجاہد کو 5 5 سال سزا اور 50 ہزار جرمانہ کی سزائیں سنائیں ہیں- دوسرے رہنماؤں پروفیسر حافظ عبدالرحمان مکی اور حافظ عبدالسلام کو ایک سال قید اور 20 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔

تنظیمی لحاظ سے حافظ عبدالرحمن مکی جماعت کے سیاسی معاملات کو ہینڈل کرتے تھے جبکہ ترجمانی یحییٰ مجاہد کے ذمہ تھی- لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے چند ماہ قبل 12 فروری کو ایک دوسرے کیس میں جماعت الدعوۃ کے امیر اور روح رواں پروفیسر حافظ سعید اور ان کے دیرینہ ساتھی پروفیسر ملک ظفر اقبال کو 11، 11 سال سزا سنائی گئی تھی۔

جماعت الدعوۃ کے امیر اور روح رواں پروفیسر حافظ محمد سعید اس وقت جیل میں قید ہیں- جبکہ پروفیسر ملک ظفر اقبال کو اب ایک اور کیس میں بھی سزا ہوگئی ہے- حکومت پاکستان نے 2015 میں جماعت الدعوۃ کو کالعدم قرار دیا تھا جس کی روشنی میں تن‍ظیم کے تمام اثاثے بحق سرکار ضبط کرلیے گئے تھے-

اپنا تبصرہ بھیجیں