چین انڈیا میں مزید 8 کلومیٹر داخل

بھارت اور چین نے اپنی مسلح افواج کو ہائی الرٹ کردیا ہے تفصیلات کے مطابق فوجی حکام کے درمیان ہونے والی  ملاقات میں بھی کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی ہے-

جبکہ دوسری طرف سے چین درہ قرارم میں مزید 8 کلومیٹر بھارت میں گھس آیا ہے- اور دفاعی نقطہ نگاہ سے اہم پوزیشنز پر بھی قابض ہوچکا ہے- کشیدگی کے باعث سرحد کے دونوں جانب جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر پرواز کرتے دکھائی دے رہے ہیں-

 درہ قراقرم اسٹریٹجک لحاظ سے سے نہایت اہم ہے جس پر چین نے مضبوطی سے اپنے قدم جمائے ہوئے ہیں بھارت میں موجودہ صورت حال کے پیش نظر اپنی تینوں افواج کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے جبکہ مزید بھاری توپخانہ اور جنگی سازوسامان سرحد پر روانہ کیے گئے ہیں-

یہ بھی پڑھیں: چینی فوج کے ساتھ جھڑپ 34 بھارتی اہلکار لاپتہ، عالمی میڈیا

مودی کا قوم سے خطاب، بدلہ لینے کا عزم

اسی طرح چین نے بھی مزید آرٹلری اور فوجی دستے سرحد پر پہنچا دیئے ہیں- سرحد پر رہائش پذیر عوام میں جنگی طیاروں کو دیکھتے ہوئے ہوئے شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے- 

لداخ کے دارالحکومت لیہہ سے کانگریس پارٹی کے سینیئر لیڈر رگزن سپلبار نےعالمی میڈیا کو بتایا کہ ہم رفتہ رفتہ اپنی زمین کھوتے جا رہے ہیں – چینی فوجی مسلسل ہماری زمین میں گھستے چلے آ رہے ہیں- اور ہم بے بسی سے سے دیکھ رہے ہیں- 1962 کی حد بندی کو دیکھیں اور چینی فوجیوں کی موجودگی کو دیکھیں تو ہماری بہت سی زمین جا چکی ہے اور چین نے تو وہاں پر سڑکیں بھی بنا لی ہیں- 

واضح رہے کہ اس سے پہلے وادی گلوان میں چینی اور بھارتی فوجیوں کے درمیان خونریز جھڑپ ہوئی تھی جس میں 20 فوجی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ تارہ اطلاعات کے مطابق 100 بھارتی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں

چینی فوجیوں کا وار اتنا جارحانہ تھا کہ بھارتی فوجیوں نے ان کے غیض و غضب دیکھتے ہوئے جان بچانے کے لیے دریا میں چھلانگیں لگائی لیکن دریا کا درجہ حرارت صفر تھا جس سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی 

عالمی میڈیا کے مطابق اس جھڑپ میں کوئی آتشیں اسلحہ استعمال نہیں ہوا بلکہ چینی فوج نے کیل لگے ڈنڈے اور خار دار تاروں سے جکڑے سوٹوں کا استعمال ک کیا جس سے بھارتی فوجیوں شدید زخمی ہوئے اور ہلاکتیں ہوئیں- لداخ کے مقامی صحافی نے برطانوی میڈیا کو بتایا کہ حالات بہت کشیدہ ہیں اور بھارت نے اس علاقے کی موبائل سروس بھی بند کر رکھی ہے 

اپنا تبصرہ بھیجیں