پی آی اے طیارہ حادثہ، انسانی غلطی قرار

وفاقی وزیر برائے سول ایوی ایشن غلام سرور خان نے پی آئی اے کے تباہ ہونے والے طیارے سے متعلق عبوری تحقیقاتی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہ طیارہ حادثہ  میں کیبن کریو کی توجہ جہاز کے معاملات کی طرف نہیں تھی- اور پائلٹس کے درمیان گفتگو کا موضوع کورونا تھا-

وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ پائلٹ نے لینڈنگ کے وقت مروجہ اصولوں کو مد نظر نہیں رکھا، طیارے میں کسی قسم کا کوئی تکنیکی نقص نہیں تھا اورپائلٹس نے بھی ایئر ٹریفک کنٹرولر کو اس بارے کچھ نہیں بتایا تھا-

حادثہ عبوری رپورٹ کے مطابق انسانی غلطی کا شاخسانہ لگتا ہے  کہ پائلٹ کی توجہ جہاز سے ہٹ چکی  تھی اور وہ غیرمتعلق موضوع کے بارے میں بات کر رہے تھے-

جبکہ دوسری طرف ایئر ٹریفک کنٹرولر نے جب پائلٹ کو جہاز کی بلندی کے بارے میں متنبہ کیا تو پائلٹ نے اسے نظر انداز کر دیا اور آٹو پائلٹ سے ہٹا کر طیارے کو اپنے کنٹرول میں کر لیا- اس سلسلے میں پائلٹ کی حد سے زیادہ خود اعتمادی بھی حادثے کی وجہ بنی-

ابتدائی رپورٹ کے مطابق جہاز کے لینڈنگ گیئر میں بھی کوئی خرابی نہیں تھی اور سارا حادثہ انسانی غلطی کی وجہ سے رونما ہوا ہے ائیر ٹریفک کنٹرولر نے لینڈنگ کے وقت جہاز کے لینڈنگ گیئر کا مشاہدہ یا تو سرے سے کیا ہی نہیں اور اگر کیا تو اسے نظر انداز کر دیا-

غلام سرور خان نے مزید بتایا کہ کہ مکمل تحقیقات ہونے میں ایک سال کا عرصہ لگ سکتا ہے اور مزید حقائق سامنے آ سکتے ہیں اس سلسلے میں فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور بلیک باکس ڈیکوڈنگ کا انتظار بھی ہے-

واضح رہے کہ وفاقی وزیر نے اس سے پہلے اعلان کیا تھا کہ اگر ان کے ادارے کی نااہلی ثابت ہوتی ہے تو وہ اپنے عہدے سے استعفی دے دیں گے- جبکہ وزیر اعظم عمران خان بھی طیارہ حادثہ کی شفاف تحقیقات پر زور دیتے رہے ہیں- 

اپنا تبصرہ بھیجیں