حکومتی قرضہ سکیم کے باوجود لاکھوں نوکریاں خطرے میں

حکومت پاکستان نے پرائیویٹ اداروں کو کرونا کے باعث معاشی بحران میں سنبھالا دینے کے لیے ایک قرضہ سکیم شروع کی تھی جس کے مطابق نجی ادارے اسٹیٹ بینک سے بہت کم شرح سود پر قرض لے سکتے ہیں اور ملازمین کی 3 ماہ کی تنخواہیں اپریل تا جون ادا کرسکتے ہیں

اس سکیم کے مطابق ان چھوٹے نجی اداروں کو ترجیح دی جائے گجن کا تنخواہوں کا بجٹ 20 کروڑ سے 50 کروڑ ہوگا-
یہ قرضہ دو سال میں واپس کرنا ہوگا اور اس پر شرح سود پانچ فیصد رکھا گیا ہے-
لیکن جب ریٹیلرز اور چھوٹے نجی اداروں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ حکومتی سکیم صرف صنعتی اداروں کے لئے ہے تو اس وجہ سے ہمیں اس مد کوئی فائدہ نہیں ہے-
حکومت کو چاہیے تھا کہ یہ سکیم سبھی اداروں کے لیے متعارف کرواتی کیونکہ
موجودہ صورتحال کی وجہ سے سے ہمارے کاروبار تین مہینے سے متاثر ہیں اسی باعث ہم اپنے موجودہ بجٹ کے حوالے سے ملازمین کو تنخواہیں نہیں دے سکتے
گزشتہ تین ماہ سے کوئی معاشی سرگرمی نہیں تھی جس کی وجہ سے ہم ملازمین کو تنخواہ دینے کا اضافی بوجھ نہیں اٹھا سکتے ان حالات میں یہی نظر آرہا ہے کہ اگلے کچھ دنوں میں 50فیصد ملازمین کو فارغ کرنا پڑے گا اور تقریبا 37 لاکھ نوکریاں خطرے میں ہیں-
حکومت کو چاہیے کہ چھوٹے نجی اداروں کو بھی ایسی ہی قرضہ سہولیات فراہم کرے

اپنا تبصرہ بھیجیں