ڈاکٹر نعیم خالد چوہدری ایک ہیرو قرار

سعودی عرب میں پاکستانی کمیونٹی اور طب سے وابسطہ لوگوں نے پاکستانی سرجن ڈاکٹر نعیم خالد چوہدری کو خراج تحسین پیش کیا ہے- جو دو دن قبل کورونا وائرس کے باعث جاں بحق ہو گئے تھے- ڈاکٹر نعیم مکۃ المکرمۃ کے ہرا جنرل ہسپتال میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

ڈاکٹر چودھری کی عمر 46 برس تھی اور ان کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شمال مشرقی ضلع نارووال سے تھا۔ وہ 2014 میں اپنی فیملی کے ہمراہ سعودی عرب میں اسلام کے سب سے قدیم شہر مکۃ المکرمۃ میں ایک سرجن کی حیثیت سے آئے تھے۔ انہوں نے سوگواران میں اہلیہ اور تین بیٹیاں چھوڑی ہیں۔

تواب چوہدری جو شھید ڈاکٹر کی اہلیہ بھی ہیں خود بھی اسپتال میں ریڈیالوجسٹ کی حیثیت سے کام کررہی ہیں انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر وبائی مرض کے خلاف فرنٹ لائن پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور 14 مئی کو ان میں کورونا کی معمولی علامات ظاہر ہوئی تھیں۔

“انہوں نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کی انہیں ہلکا بخار تھا اور 14 مئی کو انہیں تھکاوٹ کی شکایت تھی، اور ٹیسٹ کے نتیجے میں کورونا کی تشخیص ہوئی تھی۔ ان کا علاج شروع کیا تھا اور مہینے کے آغاز تک بہتری کے آثار ن‍ظر آئے تھے۔ لیکن پھر اچانک ان کی طبیعت خراب ہوگئی تھی

پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے بھی مملکت کے لئے انکی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے دعائیں پیش کرتا ہوں پاکستانی سرجن کے لئے دعا کی ہے
انہوں نے ٹویٹر پوسٹ میں کہا ہے کہ میں پاکستانی سرجن نعیم خالد چوہدری کے اہل خانہ سے تعزیت اور دعائیں پیش کرتا ہوں پاکستانی سرجن کے لئے دعا کی ہے

جدہ میں سعودی وزارت صحت کی پبلک ہیلتھ کے ماہر ڈاکٹر ضیاء اللہ داوڑ نے ڈاکٹر چوہدری کو ان الفاظ میں یاد کیا: “وہ ایک مکمل پیشہ ور ڈاکٹر تھے جو اپنے تمام تر خطرات کے باوجود کبھی بھی اپنے فرائض سے نہیں ہچکچاتے تھے۔”

انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ پاکستانی سرجن نے وزارت صحت کی درخواست پر جنوب مغربی سرحدی شہر جازان میں بھی پانچ بار خدمات سرانجام دیں تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں