سربیا میں دوبارہ لاک ڈاؤن، مظاہرین پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل

یورپی ملک سربیا کے دارالحکومت بل‍غراد میں کرونا وائرس کے کیسز میں شدید اضافے کے بعد دوبارہ لاک ڈاؤن اور کرفیو لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے- حکومت کی جانب سے فیصلہ لیتے ہی عوام مظاہرہ کرتی ہوئی سڑکوں پر نکل آئی اور مشتعل مظاہرین کی جانب سے شدید توڑ پھوڑ کی گئی اور مظاہرین رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ہوگئے-

 خبررساں ادارے بی بی سی کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئیں اور دونوں جانب سے شدید پتھراؤ بھی کیا گیا جس سے بارہ افراد زخمی ہوگئے ہیں- 

تفصیلات کے مطابق مظاہرین کی جانب سے گزشتہ روز پر امن احتجاج بھی کیا گیا تھا لیکن دوبارہ لاک ڈاؤن اور کرفیو کے فیصلے کے بعد احتجاج پرتشدد ہوتا چلا گیا اور خواتین کے علاوہ طلبہ نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے- 

مقامی میڈیا کے مطابق انتہائی دائیں بازو کے قوم پرستوں کی جانب سے ایسے مظاہرین کی حمایت اور تائید کا الزام بھی لگایا گیا ہے- میڈیا نے مزید بتایا کہ مظاہرین میں ایک رکن پارلیمنٹ بھی شامل ہے جو کہ ویکسین مخالف اور اینٹی فائیو جی سازش کے نظریات کو بڑھا چڑھا کر مظاہرین کے سامنے پیش کررہے ہیں-

پولیس کے مطابق پندرہ منٹ بعد ہی پارلیمنٹ کو مظاہرین سے خالی کروا لیا گیا تھا تاہم شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ اور توڑ پھوڑ جاری ہے پولیس کی جانب سے آنسو گیس شیل کا استعمال بھی کیا گیا ہے مشتعل مظاہرین کی جانب سے متعدد پولیس کی گاڑیوں کو آگ بھی لگائی گ‏ئی – 

سربیا کے وزیر اعظم کی جانب سے مظاہرین کو تنبیہ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملک کے امن و امان کو کسی صورت خراب نہیں ہونے دیا جائے گا اور ایسے مظاہرین سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا انہوں نے مزید بتایا کہ سارے دنیا کی طرح سربیا کے نظام صحت پر بھی کرونا وائرس کے باعث شدید دباؤ ہے جبکہ اپوزیشن اپنے مذموم مقاصد کے  لیے عوام کو ورغلانے سے باز رہیں-

اپنا تبصرہ بھیجیں