مکہ میں باربر شاپ ہوٹل میں کیسے تبدیل ہوئی؟

سعودی حکام نے ایک نائی کی دکان کو ایک ریستوران میں تبدیل کرنے والے غیر قانونی طور پر مقیم تارک وطن کے خلاف کاروائی کی ہے جو بغیر کسی صحت کے سرٹیفکیٹ کے ریستوران چلا رہا تھا۔ ہوٹل کھولنے اور چلانے کے لیے مقرر کردہ اصول و ضوابط سے بھی مکمل طور پر نابلد تھا۔

مکہ المکرمہ کے محلے المسفلہ میونسپلٹی کے چیئرمین انجنیئر یاسر بن صالح نے بتایا کہ محکمہ صحت کے کنٹرول انسپکٹرز نے اپنی اچانک جانچ پڑتال کے ذریعہ ریستوران کی تلاشی لی تو صفائی کی صورتحال انتہائی ناقص پائی گئی مزید تحقیق میں پتا چلا کہ باربر شاب کو ریستوران میں تبدیل کیا گیا ہے اس سلسلے میں بلدیہ سے بھی کوئی اجازت نامہ حاصل نہیں کیا گیا-

انجینیر یاسر نے مزید بتایا کہ کھانے پینے کی چیزیں تلف کردی گئی ہیں، جبکہ سازوسامان اور برتن ضبط کرلئے گئے ہیں اور دکان فوری طور پر سیل کردی گئی ہیں- متعدد خلاف ورزیوں پر دکان کے کفیل کو بلدیہ میں طلب کیا گیا تھا اور میونسپلٹی جرمانے لگائے گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں