بیروت دھماکوں میں ترکش جہاز کا کیا ہاتھ ہے؟

لبنان میں تباہ کن دھماکوں کے بعد نئی پیش رفت سامنے آئی ہے بیروت بندرگاہ پر ایک ملازم نے بتایا ہے کہ منگل کو بری طرح تباہی والا دھماکہ خیز مواد ترکی کے جہاز پر سے آف لوڈ کیا گیا تھا۔

یوسف شہید نامی ملازم نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک ویڈیو کلپ میں کہا ہے کہ جہاز “فتح اللہ” کو اس سے قبل طرابلس میں روکا گیا تھا اور بعد میں اس جہاز کو بیروت کی بندرگاہ کی جانب موڑا گیا تھا، بیروت آمد کے بعد یہ جہاز برتھ نمبر 10 پر موجود تھا۔

سعودی کسٹم حکام سونگھنے والے کتوں سے کووڈ 19 سے متاثرہ افراد کا سرا‏غ لگائیں گے-

سربیا میں دوبارہ لاک ڈاؤن، مظاہرین پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل

انہوں نے مزید کہا کہ مزدوروں نے جہاز میں سوار دھماکہ خیز مواد بندرگاہ میں ہینگر نمبر 12 میں منتقل کیا تھا- جس میں دھماکہ خیز مواد ، گیس اور آتش گیر مادے بھی شامل ہیں اس سے قبل لبنان کے وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ برسوں قبل ضبط کیے گئے تباہ کن دھماکہ خیز مواد بیروت پورٹ کے علاقے میں پھٹ گیا تھا۔۔

مزید تفصیلات کے مطابق لبنانی اخبار (الاخبار) نے اس جہاز کے بارے میں معلومات شائع کی تھیں جسے لبنانی حکام نے ضبط کیا اور تحویل میں لیا تھا اخبار نے اس وقت لبنان کے راستے شام میں اسلحہ اسمگل کرنے کی متعدد کوششوں کے بارے میں بھی اطلاع دی تھی۔

منگل کے روز مقامی میڈیا نے لبنان کے ایک سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ بندرگاہ میں ضبط شدہ تقریبا 2700 ٹن امونیم نائٹریٹ “ویلڈنگ” اور بحالی کے کام کے دوران پھٹ گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں