مناسب اور شرعی نام نومولود کا حق ہے، سعودی انسانی حقوق کمیشن

سعودی انسانی حقوق کمیشن نے تصدیق کی کہ کسی بچے کا نام رکھتے ہوئے اس بات کو ملحو‍‍ظ خاطر رکھا جائے کہ نوزائیدہ کے نام سے کسی بابت توہین کا پہلو نہ نکلتا ہو۔

کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ بچے کی پیدائش کے فورا بعد شرعی نام نومولود کا حق ہوتا ہے اس سلسلے میں مناسب رکھنا والدین کا فرض ہوتا ہے۔

ادارے نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ نام کی نسبت کسی کی توہین کرنا یا اسلامی قانون کے منافی نام رکھنا جائز نہیں ہے۔

یہ بات واضح رہے کہ اس سے قبل ماہ جنوری میں نومولود بچوں کے ناموں کی رجسٹریشن کے حوالے سے متعدد اصول و ضوابط وضع کیے گئے تھے جن میں مرکب ناموں کے استعمال کے وقت احتیاط برتنے کو کہا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم مذاق بن کر رہ گئی

سعودی عرب میں کورونا کے نئے کیسز 9 آگست

1992 كووڈ 19 متاثرین تاحال انتہائی نگہداشت میں ہیں۔ سعودی وزارت صحت

ممنوعہ ناموں میں وہ نام بھی شامل تھے جو اسلامی قانون کے منافی ہیں جیسا کہ عبد الرسول اور اس حوالے سے یہ بھی کہ کہا گیا تھا کہ یہ نام اس طرح کے عنوان سے پاک ہو جیسا کہ مسٹر اور اسی سے ملتے جلتے اضافی سابقے اور لاحقے سے منع کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں